ابنا: عبداللہ صالح نے امريکي جريدے ٹائم اور اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ اپنے انٹرويو ميں کہاکہ اگر اقتدار کي منتقلي انجام پاتي ہے اور اس کے مخالفين اپنے عہدوں پر باقي رہتے ہيں تو اس کا مطلب يہ ہوگا کہ ہم نے بغاوت کے سامنے گھٹنے ٹيک ديئے ہيں -خبروں کے مطابق عبداللہ صالح کا اشارہ انقلابيوں کي صفوں ميں شامل ہونے والے فوج کے اہم جنرل علي محسن الاحمر اور يمن کے قبائلي سردار شيخ صادق الاحمر کي طرف ہے -
يمني ڈکٹيٹر نے کہا کہ اگر اقتدار کي منتقلي انجام پاتي ہے اور اس کے مخالفين اپنے عہدوں پر باقي رہتے ہيں اور بدستور فيصلے کرتے رہيں يہ تو بہت ہي خطرناک صورتحال ہوگي اور اس سے ملک ميں خانہ جنگي شروع ہوجائے گي -عبداللہ صالح جو صدارتي محل پر حملے ميں زخمي ہونے کے بعد علاج کے بہانے سعودي عرب چلا گيا تھا گذشتہ تيئس ستمبر کو واپس صنعا لوٹ آيا ہے-علي عبداللہ صالح کو جو گذشتہ تينتيس برس سے يمني عوام پر آمرانہ حکومت کررہا ہے اب فروري کے ميہنے سے عوام کے سخت احتجاجي مظاہروں کا سامنا ہے -يمن ميں جاري عوامي انقلاب ميں اب تک سيکڑوں عام شہري يمني فوج کے ہاتھوں مارے جاچکے ہيں جبکہ بڑي تعداد ميں لوگ زخمي ہوئے ہيں -...........
/169